مصنوعی ذہانت اور تصاویر
رشتہ یقین پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کا استعمال اور ان پر AI کا نشان دکھانے کا ہمارا طریقہ۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر
رشتہ یقین اس ویب سائٹ کے بعض حصوں میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر استعمال کرتا ہے۔
جن تصاویر پر AI کا نشان ہے، وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہیں۔ یہ صرف منظر کشی کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور رشتہ یقین کے کسی حقیقی صارف یا شادی کے امیدوار کو نہیں دکھاتیں۔
ہم یہ نشان کیوں لگاتے ہیں
ہمارا ماننا ہے کہ دیکھنے والے کو معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی تصویر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے۔ ہمارے لیے اس بات کو واضح رکھنا ہی درست طرزِ عمل ہے۔
ہمارا AI کا نشان
اوپر دی گئی تصویر کے اوپری بائیں کونے میں AI کا نشان بتاتا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے۔ ہم ویب سائٹ کی تمام زبانوں میں یہی نشان استعمال کرتے ہیں۔
ویب سائٹ کی ترقی کے ساتھ ہم ان شاء اللہ ایسی تصاویر بھی استعمال کر سکتے ہیں جو مصنوعی ذہانت سے نہ بنی ہوں۔ AI کا نشان ان میں فرق پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔
چھوٹی تصاویر اور تھمب نیل
ہم مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر پر AI کا نشان اس وقت دکھاتے ہیں جب تصویر کا حجم اسے واضح طور پر پڑھنے کی گنجائش دے۔
بہت چھوٹی تصاویر پر ہم یہ نشان چھوڑ سکتے ہیں۔ پڑھنے کے قابل نشان چھوٹی تصویر پر حاوی ہو سکتا ہے، جبکہ تصویر کے تناسب کے مطابق اسے چھوٹا کرنے سے اسے پڑھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ان میں سے بہت سی چھوٹی تصاویر تھمب نیل یا ایسے صفحات کے لنک ہوتی ہیں جہاں یہی تصویر بڑے حجم میں دکھائی جاتی ہے۔ جہاں بڑی تصویر دستیاب ہو، وہاں آپ کو ان شاء اللہ AI کا نشان ملے گا، بشرطیکہ دکھائی جانے والی تصویر کا حجم اس کی گنجائش دے۔
کسی چھوٹی تصویر پر AI کا نشان نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت سے نہیں بنائی گئی۔
ہماری تصاویر میں عموماً چہرے کیوں نظر نہیں آتے
ایسی احادیث موجود ہیں جن میں جانداروں کی تصاویر بنانے کے بارے میں سخت تنبیہ کی گئی ہے۔
ان میں سے ایک حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ ایسی تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: «جو تم نے بنایا ہے، اس میں جان ڈالو۔» یہ حدیث مثلاً صحیح البخاری 5951 اور صحیح مسلم 2108a میں درج ہے۔
ایک اور حدیث، جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور جامع الترمذی 2806 میں درج ہے، میں بیان ہوا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے ایک شبیہ کا سر ہٹانے کی ہدایت دی تاکہ وہ درخت کے تنے جیسی ہو جائے۔
اس کے ساتھ دیگر متعلقہ احادیث بھی موجود ہیں، اور اہلِ علم کی مختلف آرا ہیں کہ ان تعلیمات کا اطلاق مختلف قسم کی تصاویر پر کس طرح ہوتا ہے، جن میں فوٹوگرافی، ڈیجیٹل تصاویر اور اب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر صحیح البخاری 6130 میں بیان ہوا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی موجودگی میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھیں۔
یہاں نقل کی گئی تنبیہات احادیث سے ہیں، قرآن سے نہیں۔ ہمیں ابھی اس بارے میں یقین نہیں کہ ان روایات کا اطلاق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر پر کس طرح ہوتا ہے، اس لیے ہم صرف انہی کی بنیاد پر کوئی قطعی نتیجہ اخذ کرنے میں احتیاط کرتے ہیں۔
ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ دوسرے بھائی بہن مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایسی تصاویر استعمال کریں جن میں چہرے کے خدوخال نظر آتے ہوں۔
رشتہ یقین کے لیے ہم فی الحال احتیاط کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم لوگوں کو پیچھے سے دکھاتے ہیں، تاکہ چہرے کے خدوخال نظر نہ آئیں۔ اس وقت ہمارے خیال میں یہی ان شاء اللہ ہمارے لیے سب سے محفوظ طریقہ ہے۔
اگر آپ کو ہماری ویب سائٹ پر کوئی ایسی تصویر نظر آئے جس میں چہرے کے خدوخال دکھائی دے رہے ہوں، تو براہِ کرم ہمیں salam@rishtayaqeen.com پر اطلاع دیں۔ ساتھ اس صفحے کا لنک بھیجنے سے ہمیں تصویر ڈھونڈنے میں مدد ملے گی۔